کیا واٹس ایپ کی نئی پالیسی، دجالیت کا پیش خیمہ ہے!

 کیا واٹس ایپ کی نئی پالیسی، دجالیت کا پیش خیمہ ہے!

واٹس ایپ صارفین 20 فروری دوہزار اکیس تک نئی پالیسی کو قبول کریں ورنہ اپنے اکاونٹس ڈیلیٹ کر دیں۔ 


واٹس ایپ WhatsAppکی نئی پرائیویسی پالیسی جو نئے سال یعنی 2021 کے آغاز میں متعارف کروائی گئی۔ اسکے مطابق مذکورہ ایپ نہ صرف صارفین کا ڈیٹا استعمال کرے گا بلکہ اسے فیس بک facebookکے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔ اسکے علاوہ صارف کو نام، موبائل نمبر، تصاویر ، لوکیشن وغیرہ واٹس ایپ کو مہیا کرنا ہوں گے۔اسکے پاس  صارف کی ٹرانزیکشن، پیمنٹ فیچر کی انفارمیشن بھی ہوگی۔ نیز دوسرے  کانٹیکٹس اور پلیٹ فارم کے ذریعے واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا بھی لیا جائے گا۔ صرف یہی نہیں واٹس ایپ یوزر کے موبائل کی مکمل معلومات جسمیں بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات شامل ہیں، وہ بھی واٹس ایپ حاصل کرسکے گا۔اسی طرح  جب صارفین تھرڈ پارٹی کی خدمات لیتے ہیں مثلاً فیس بک کمپنی کی دوسری پروڈکٹس پر انحصار کرتے ہیں، تو وہ تھرڈ پارٹی بھی استعمال کنندہ کی معلومات حاصل کر سکتی ہے۔ نئی پالیسی میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف اپنے واٹس ایپ اکاونٹ کو ڈیلیٹ کیے بغیر صرف موبائل سے واٹس ایپ کو ڈیلیٹ کردیتا ہے تو اس کی معلومات محفوظ رہیں گی۔ گو اس حوالہ سے کچھ بھی حتمی طور پر کہناممکن نہیں کیونکہ  فیس بک  انتظامیہ اپنے صارفین کے ڈیٹا کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کے حوالہ سے پہلے بھی عدالتی کاروائی کا سامنا کرچکی ہے۔ مارک زکر برگ کی اپریل 2018 میں فیس بک عدالتی سماعت کے دوران  فیس بک کے بارے میں کہا گیا کہ اسنے لوگوں کو connect  کرنے کا سلوگن دے کر انکی پرائیویسی پر ڈاکہ ڈالا اور انکا فراہم کردہ ڈیٹا خاموشی سے مختلف کمپنیوں اور اداروں کو فروخت کردیا گیا۔ اسکے ساتھ ساتھ زکربرگ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جن لوگوں کے فیس بک اکاؤنٹ نہیں ہیں یا جو log off ہو چکے ہیں انکی ذاتی معلومات اور یوزر ڈیٹا بھی کمرشل اور سیکیورٹی وغیرہ کے نام پر چرا لیا جاتا ہے اور یہ کہ زکر برگ اپنے اس طرزِ عمل یا   بزنس ماڈل کو بدلنے کے بجائے اسے مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ۔ اور اب  واٹس ایپ کے بار ے میں اسکی نئی پرائیویسی پالیسی کے اعلان نے اسپر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔


یاد رہے! واٹس ایپ WhatsApp کا بانی امریکی کاروباری شخصیت جان کوم Jan Koum( 1976) ہے ۔جو اصلاً یوکرینی یہودی  اور کمپیوٹر پروگرامر ہے ۔ واٹس ایپ کو 2014 میں مارک زکربرگ نے 19.3بلین ڈالر میں کوم سے خرید لیا تھا۔ مارک زکربرگ نے 2012 میں انسٹاگرام Instagramکو بھی ایک بلین یو ایس ڈالر میں خرید لیا تھا۔اسکےعلاوہ  مقبول موبائل پرفارمنس سوٹ App Annie بھی  اسکی ملکیت ہے۔ "واٹس ایپ "اسمارٹ فون کا ایک فری میسنجر ایپ  ہے جو بذریعہ انٹر نیٹ پیغامات، تصویریں، آڈیو اور ویڈیو پیغامات وغیرہ بھیجنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ "مارک زکربرگ Mark Zuckerberg" ایک 36 سالہ امریکی کمپیوٹر انٹرنیٹ ماہر اور فیس بک facebook کا شریک بانی اور  مالک ہے۔" فیس بک facebook"ایک online سوشل میڈیا اور سوشل نٹورکنگ کمپنی ہے جسکا صدر دفتر Menlo پارک کیلیفورنیا (امریکہ) میں واقع ہے۔


واٹس ایپ انتظامیہ صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے اور اسے اسٹور کرنے کے لیے فیس بک کا گلوبل انفرا سٹرکچر اور اپنے ڈیٹا سنٹرز استعمال کر رہی ہے۔ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'بائٹس فار آل'  کے کنٹری ہیڈ شہزاد احمد کہتے ہیں کہ فیس بک واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا اشتہارات کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک سونے کی کان ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ طور پر صارفین کا ڈیٹا بیچا بھی جا سکتا ہے۔ یہاں یہ دلچسپ حقیقت بھی معلوم رہے کہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی میں معلومات  شیئر کرنے کے نئے قواعد کا اطلاق یورپی صارفین  بشمول برطانیہ پر نہیں کیا جارہا۔  


یاد رہے! یورپی یونین ایک ایسا تاریخی قانون منظور کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجیکل کمپنیز جیسے فیس بکFacebook، ایمیزون Amazonاور گوگل Googleجیسی بڑی اور اجارہ داری قائم کرنے والی کارپوریشنز کی طاقت کو کنٹرول کرنا ہے۔ ایسی کارپورینشز کے لئے نئے قوانین متعارف کروانا، کاروبار کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر بڑے جرمانے کیے جا سکیں گے۔اس قانون سازی کو 'ڈیجیٹل سروس ایکٹ اینڈ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹDigital Service act and digital markets act‘ کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں بھی ان بِگ ٹیک کمپنیز کے حوالہ سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔امریکی کانگریس میں ان پر ‘طاقت کے بے جا استعمال‘ کا الزام لگاکر انکے خلاف قانونی چارہ جوئیاں کی جارہی ہیں۔ 


شہزاد احمد خصوصاً پاکستانی صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی قبول نہ کریں اور متبادل ایپس کو ترجیح دیں۔ خواتین کو خاص طور پر اپنے پرائیویٹ ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔  اسی طرح سعودی سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ فیصل ال عمران کا کہنا ہے کہ فیس بک کی ایپلی کیشنز اپنے صارفین کی بہت زیادہ نجی معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔  نجی معلومات یا ڈیٹا کا افشا ہوجانا  یا کسی کاروباری کمپنی و ملٹی نیشنل  کارپویشن کے تصرف میں چلے جانا ایک بہت اہم  بلکہ تیزی سے بدلتی اور ڈیجیٹیلائزڈ ہوتی دنیا میں سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ 


یاد رہے! گیلپ کے 2019 کے سروے کے مطابق 39 فیصد پاکستانی واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں جبکہ گیلپ کے 2020 کے ایک سروے میں 26 فیصد پاکستانیوں نے اپنے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے واٹس ایپ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ۔


دوسری طرف وہ صارفین جو واٹس ایپ سے ٹیلی گرام Telegramکی جانب متنقل ہورہے ہیں ، بائٹس فار آل کے کنٹری ہیڈ نے انھیں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مالکان کا اب تک کوئی صحیح سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ پاکستان میں اس کے غیر قانونی استعمال کی وجہ سے اس پر پابندی عائد رہی ہے، اس کے علاوہ یہ ڈارک ویب سے بھی منسلک ہے۔وہ صارفین کو سگنل ایپ  Signal استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ جو ایک غیر سرکاری تنظیم سول سوسائٹی آرگنائزیشن چلاتی ہے اور اس میں صارفین کا ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی اینڈ ٹو اینڈ انکریپٹڈ ہیں اور اس کے فیچرز واٹس ایپ سے مماثلت رکھتے ہیں۔


یاد رہے! ٹیلی گرام کی بنیاد دو بھائیوں پاول اور نیخولائی دوروو نے رکھی تھی۔ دونوں بھائیوں نے اس سے پہلے روس کے مقبول ترین سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹ وی کونٹاکٹے کی بنیاد رکھی۔ 2018 کے اعدادو شمار کے مطابق ٹیلی گرام کے صارفین کی تعداد 200 ملین ہے،جن میں سے سات فیصد روسی ہیں۔ 2018  میں روسی حکام نے کمپنی کی جانب سے صارفین کے پیغامات تک رسائی نہ دینے پر مقامی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’ٹیلی گرام‘ کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ر وسی حکام کی جانب سے ’ٹیلی گرام‘ کو بند کرنے کی مہم ناکام ہوئی اور ابھی تک یہ ایپ روس میں کام کر رہی ہے۔ ٹیلی گرام‘میسجنگ پرائیویسی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً روسی حکام سے الجھتا رہتا ہے۔اسکے علاوہ ایرانی حکومت نے بھی Instagramاور Telegram پر پابندی لگا رکھی ہے۔ 


ماہرین کے ٹیلیگرام پر چند مزید تحفظات کچھ یوں ہیں:

1۔  ٹیلی گرام پر چیٹس صرف اسی وقت انکرپٹیڈ ہوتی ہیں جب آپ اپنے ہر کونٹیکٹ کے لیے سیکرٹ چیٹ کے آپشن کا انتخاب کرتے ہیں۔

2۔  ٹیلی گرام گروپس اور چینلز encryptedنہیں ہوتے۔

3۔  ٹیلی گرام گروپس اور چینلز محفوظ  نہیں ہیں، ان کے ذریعے صارف کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

4۔  ٹیلی گرام contact listمیں سے ان لوگوں کا ڈیٹا بھی حاصل کرتا ہے جو اسے استعمال نہیں کرتے۔


ٹیلی گرام کےشریک بانی پاؤل دروو Pavel Durov نے مئی 2019 میں ایک انٹرویو میں کہا کہ جب بھی وٹس ایپ اپنے سکیورٹی فیچرمیں سامنے آنے والی کسی خامی کو درست کرتی ہے تو اس کی جگہ نیا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ دروو کا دعویٰ ہے کہ ایف بی آئی نے وٹس ایپ یا فیس بُک کو مجبور کیا ہو گا کہ وہ اپنی پروگرامنگ میں سکیورٹی سسٹم کو بائی پاس کرنے کے لیے بیک ڈور یا خفیہ طریقے شامل کریں۔ واٹس ایپ اگر  صارف کی ہر قسم کی معلومات پر کنٹرول کرنا چاہتا ہےتو  ٹیلیگرام ، صارف کے نام ، نمبراور  لوکیشن  تک رسائی رکھتا ہے جبکہ اسکے مقابلہ میں سگنل ،صارف کے نمبر کے علاوہ کسی شے کی طلب نہیں کرتا۔ سگنل ایک اوپن سورس پلیٹ فام ہے، جسمیں ساری کمیونیکیشن اِن کرپٹڈ ہوتی ہے۔  دنیا کے ایک اور امیر ترین کاروباری اور کئی کارپوریشنز کے سربراہ ایلن مسک نے  لوگوں کو 'سگنل 'استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ 

یاد رہے! خلائی سیاحت کی کمپنی ’سپیس ایکسSpaceX‘ کے بانی اور برقی گاڑیاں بنانے والے کمپنی ٹیسلا Teslaکے مالک ایلن مسک Elon Muskنے 2020 میں اپنی دولت میں مجموعی طور پر 140 بلین ڈالر کا اضافہ کیا اوربھارتی تیل و گیس کے تاجر مکیش امبانی ، امریکی سرمایہ کار وارن بفٹ اور   مائیکروسوفٹ کے بل گیٹس کو پیچھے چھوڑ کر جیف بیزوس کے بعد دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ۔ اسکی سپیس ایکس کارپوریشن خلانوردوں کو خلا میں بھیجنے کی پہلی نجی کمپنی بھی بن گئی ہے۔ 


یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ واٹس ایپ  اور دیگر سوشل میڈیا اور میسیجنگ ایپس کے  حصولِ ڈیٹا Data collection کے وسیع یا عالمگیر تناظر کو بھی کسی قدر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اسےجدید اصطلاح میں 'پوسٹ ماڈرن ایرا'  کہاجاتا ہےجسکی ابتدأ  1950 کے بعد سے مانی جاتی ہے۔ اس دور میں 'معلومات یا ڈیٹا' کی وقعت و اہمیت کے بارے میں رجحان ساز مفکر لیوٹارڈ (1924-98) یوں پیشن گوئی کرتا ہے: "علم کے میدان میں انقلاب برپا ہونے کیوجہ سے علم قابلِ فروخت commodity بن چکا ہے اور علم محض برائے رہنمائی نہیں بلکہ ڈیٹا بنکوں کے سٹوریج نظام کیوجہ سے معلومات کا ذخیرہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ علم یا معلومات کی ذخیرہ اندوزی data banks of information اور اس پر قبضہ کرنے کے لئے ریاستیں اسطرح برسرِ پیکار ہونے والی ہیں جسطرح وہ ماضی میں علاقوں پر قبضہ کرنے اور بعد ازاں خام مال اور سستی محنت تک رسائی کے لئے لڑتی رہی تھیں " (The Postmodern Condition: A report on Knowledge)۔جبکہ دوسری طرف سوشل و موبائل پلیٹ فارمز فیس بک، واٹس ایپ  ، انسٹاگرام، میسنجر اور ایپ اینی وغیرہ کے اونر ،مارک زکربرگ کا ایک دوست اور مشورہ دہندہ اسرائیلی فلسفی  یوول نوح حراری  اپنی کتاب  Homo Deus: A Brief History of Tomorrow میں کہتا ہے کہ "انسان مستقبل میں خدائی صفات کا حامل ہوجائے گا اور ' بگ دیٹا ' کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی جسے وہ Dataism قرار دیتا ہے۔ حصولِ ڈیٹا کے لئے اسٹیٹس اور ملٹی نیشنل کمپنیاں آمنے سامنے ہوں گی یا متحارب گروہوں کی شکل اختیار کرجائیں گی۔ 


یاد رہے! 44 سالہ یوول نوح حراری ، ایک اسرائیلی یہودی،ملحد و  لادین، ہم جنس پرست ، ڈارونی ارتقأ پر یقین رکھنے والا ہیبریو یونیورسٹی یروشلم میں ڈپارٹمنٹ آف ہسٹری میں پروفیسر ہے۔ پروفیسر حراری نے 2003-05 کے دوران  Yad Hanadiv  کےبحیثیت فیلو، ہسٹری میں پوسٹ ڈکٹورل اسٹڈیز مکمل کیا۔ Yad Hanadiv، رتھ چائلڈ فیملی فاؤندیشن کی اسرائیلی شاخ ہے  جو کہ اسرائیل  کو یہودی روایات کے مطابق ایک صحتمند سوسائٹی بنانے کے لئے سرگرم ہے۔ یہ فاؤنڈیشن تعلیم، ماحولیات اور عرب کمیونٹی پر فوکس کرتی ہے۔ زکربرگ اور نوح حراری کے مابین دو طرفہ ملاقاتیں اور ون ٹو ون طویل فکری نشستوں کے حوالہ سے وافر مواد انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔


یوول نوح حراری اپنی  مشہورِ زمانہ کتاب 21 Lessons for the 21st Century میں "ڈیٹا" کی اہمیت کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ اسکی کتاب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

(۱)۔اکیسویں صدی میں 'ڈیٹا ' زمین اور مشین دونوں کی اہمیت کو گہنادے گا۔ ڈیٹا کے بہاؤ پر کنٹرول کی کشاکش چھڑ جائے گی۔ اگر ساراڈیٹا چند ہاتھوں میں چلا گیاتوانسان مختلف انواع میں تقسیم ہوکر رہ جائیں گے۔ڈیٹا کے حصول کی جنگ پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔ گوگل، فیس بک، بیڈو، اور دیگرمیں ڈیٹا کی جنگ زوروں پر ہے۔ ان جائنٹس نے تفریحی معلومات اور دیگر خدمات کے ذریعے ہماری توجہ سمیٹ لی ہے۔ ہماری یہ توجہ اشتہار بنانے والوں کو بیچی جارہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اور اصل فائدہ یہ ہمارے ڈیٹا کی معلومات سے حاصل کرتے ہیں۔ ۔ڈیٹا کی یہ جنگ کاروبار کا بالکل نیا نمونہ سامنے لارہی ہے۔ جس کا پہلا شکار خود اشتہاری صنعت ہوگی۔ اس نمونے کے تحت اجارہ داری انسانوں سے الگوریتھم کو منتقل ہورہی ہے۔ اس میں اشیاء کے انتخاب اور خریداری کا اختیار بھی شامل ہوگا۔ ایک بار جب الگوریتھم نے ہمارے لیے اشیاء کا انتخاب اور خریداری شروع کردی تواشتہاری صنعت بے کار ہوجائے گی۔ گوگل کی مثال سامنے ہے۔ یہ ہمیں دنیا بھرسے بہترین پراڈکٹ بہت آسانی سے ڈھونڈ کر پیش کردیتا ہے۔ جب ہم اپنے غیر متوازن احساسات کے بجائے گوگل کے مشورے پراشیاء کا انتخاب کریں گے اور بہترین نتائج حاصل کریں گے تو آپ سوچ لیجیے اشتہاری صنعت کا کیا بنے گا؟عام انسانوں کے لیے یہ عمل روکنا انتہائی دشوار ہوگا۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ چند مفت ای میل سروسز اورتفریحی وڈیوز کے عوض لوگ اپنا قیمتی اثاثہ یعنی ذاتی ڈیٹا خوشی خوشی کمپنیوں کے حوالے کررہے ہیں۔یہ بالکل ایسا ہے جیسے افریقیوں اور دیسی امریکیوں نے اپنی پوری پوری اراضی چند معمولی اشیاء کے عوض استعمار قوتوں کے حوالے کردی تھیں۔ اب عام لوگ آن لائن سروسز میں اس طرح پھنس چکے ہیں کہ ڈیٹا کا بہاؤ روکنا محال ہوگا۔ انسان مشینوں سے اس طرح مدغم ہوگئے ہیں کہ الگ ہونے پر انسانوں کی بقاء ممکن نہ رہے گی۔  

(۲)۔ فرد کی شخصی آزادی، احساسات اور خواہشات پر لبرلزم کا اعتقاد نہ فطری ہے نہ قدیم ہے۔ ہزاروں سال سے انسانوں کا ایمان رہا ہے کہ حکم صرف آسمانی قوانین کا ہے، اس میں انسانی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اس لیے تقدیس صرف حکم خدا کی ہے۔ فقط چند صدیوں پہلے اختیارات آسمانی دیوتاؤں سے انسانوں کو منتقل ہوئے۔ جلد یہ اختیارات انسانوں سے ایلگوریتھم کو منتقل ہو جائیں گے۔ جس طرح آسمانی خدائی نے دیوتاؤں کو اختیارات دیے تھے، جس طرح لبرل کہانی نے انسانوں کو اختیارات منتقل کیے، بالکل اسی طرح آنے والا ٹیکنالوجیکل انقلاب شاید بگ ڈیٹا ایلگوریتھم کی اتھارٹی مستحکم کر دے گا اور فرد کی آزادی دفن کر دے گا۔۔۔ صرف ڈیجیٹل آمریت کا خطرہ ہی ہمارا منتظر نہیں۔ بگ ڈیٹا ایلگوریتھم شاید آزادی بھی ختم کر دے۔۔۔یہی بگ ڈیٹا مستقبل کے بگ برادر کے لیے مددگار بھی ہو سکتا ہے۔ یوں آر ویلین سرویلنس سسٹم شاید ہر شہری کی جاسوسی پر منتج ہو۔۔۔ چند ملکوں میں اور چند خاص حالات میں شاید لوگوں پر جبر کیا جائے گا کہ وہ بگ ڈیٹا ایلگوریتھم نظام کے تابع ہو جائیں۔ (امریکی صدر ٹرمپ کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کا بند کردیا جانا اور فیس بک اکاؤنٹ کی بندش،کیا ہے؟  کیا یہ کارپوریشنز اور ڈیٹا  کی برتری کا واضح ثبوت نہیں!)

(۳)۔ بائیو میٹرک ڈیٹا اور کمپیوٹنگ طاقت مل کر انسان کی ساری خواہشات، فیصلے، خیالات اور احساسات ہیک کر سکتے ہیں۔ یہ جان سکتے ہیں کہ درحقیقت کون سا انسان کیا ہے۔ اکثر لوگ خود سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔

(۴)۔ یقیناً الگوریتھم نامکمل ڈیٹا کے سبب مسلسل غلطیاں کرے گا۔ اسے نقص سے پاک ہونے کی ضرورت بھی نہیں۔ بس ضرورت یہ ہے کہ انسانوں سے بہتر فیصلہ سازی کر سکے اور یہ کچھ مشکل نہیں کیونکہ اکثر لوگ خود کو بہتر طریقے سے نہیں سمجھتے اور زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں سنگین غلطیاں کرتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایلگوریتھم کی نسبت انسان ڈیٹا کی کمی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ آپ شاید ایلگوریتھم کی بہت سی خامیاں گنوا دیں اور کہیں کہ لوگ اسے کبھی قبول نہیں کریں گے، یعنی آپ جمہوریت کو دلیل بنائیں گے ۔ مگر جمہوریت کیا ہے؟ ونسٹن چرچل کا مشہور بیان ہے کہ جمہوریت سے بدترین سیاسی نظام کوئی نہیں۔ صحیح یا غلط، لوگ کچھ بھی سوچیں۔ ہمارے پاس ایلگوریتھم کے سوا کوئی متبادل نظام موجود نہیں۔۔۔ایک بار جب مصنوعی ذہانت ہم سے بہتر فیصلے کرنے لگے گی تو انسانیت کا سارا تصور ہی بدل جائے گا۔ لبرل جمہوریت، عیسائیت اور اسلام کا کیا بنے گا جب فیصلہ سازی انسانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گی؟  جیسے جیسے فیصلوں کے لیے ہمارا انحصار آرٹیفشل انٹیلجنس پر بڑھتا جائے گا، انسانی زندگی سے فیصلہ سازی کا ڈراما ختم ہو جائے گا۔ سارا نظام ڈیٹا کا بہاؤ بن کر رہ جائے گا۔ ہمارے اجسام بائیو کیمیکل ایلگوریتھم ہو کر رہ جائیں گے۔

(۵)۔ وہ ڈیٹا پر کنٹرول کو اسرائیل فلسطین کی موجودہ صورتحال سے واضح کرتے ہوئے کہتا ہے:  درحقیقت یہ معاملہ شاید آر ویل نظام کے تصور سے بھی ماورا ہو۔ ایک ایسی حکومت جو نہ صرف ہم سب کی خارجی سرگرمیوں پر نگراں ہو بلکہ داخلی زندگی میں بھی دخیل ہو۔ ممکن ہے کہ ایسی کوئی حکومت ہر شہری کو بائیو میٹرک ڈیوائس پہننے یا نصب کرنے پر مجبور کرے۔ مثال کے طور پر فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے (غالبا غزہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں) کا سارا ڈیٹا اسرائیل کی گرفت میں ہے۔ جب یہاں سے کوئی فون کال ملاتا ہے یا سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ کرتا ہے، اسرائیلی مائیکروفونز، اسپائی سوفٹ وئیر، ڈرونزکی گرفت میں سارا ڈیٹا آ جاتا ہے، اور اسے چیک کیا جاتا ہے۔ یہی وہ انفوٹیک ہے کہ تھوڑے سے اسرائیلی فوجی بغیر جانی نقصان پچیس لاکھ فلسطینیوں پر قابو رکھتے ہیں۔

(۶)۔ وہ ایک ریاست و حکومت بلکہ دو متحارب نظاموں کی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی وجہ بھی بہتر ڈیٹا پراسیسنگ کو قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے: بیسویں صدی کے اواخر میں جمہوریتوں نے آمریتوں کو پچھاڑ دیا۔ اس کی وجہ بہتر ڈیٹا پراسیسنگ تھی۔ معلومات اور فیصلے لوگوں اور اداروں کے درمیان رہ کر کیے گئے۔ جب کہ آمریتوں نے معلومات اور ڈیٹا پراسیسنگ کو ایک ہی مقام پر محصور کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین نے امریکا کے مقابلے میں بُرے فیصلے کیے۔ یہی وجہ تھی کہ روسی معیشت امریکی معیشت سے آگے نہ نکل سکی۔

(۷)۔ اگر لبرلزم، قوم پرستی، اسلام، یا کوئی بھی نیا عقیدہ یا نظریہ ۲۰۵۰ کی نئی دنیا تشکیل دینا چاہے گا، تو اس کے لیے نہ صرف یہ ضروری ہوگا کہ "مصنوعی ذہانت (Artificial" Intelligence)، “بگ ڈیٹا ایلگوریتھم"، اور "بائیو انجینئرنگ "کی سمجھ بوجھ حاصل کرے بلکہ انہیں ایک بامعنی بیانیے میں ڈھال بھی سکے۔

(۸)۔ یوول حراری یہودی سرمایہ دار  یا کارپوریشن کے حق میں دلائل دیتاہے،لیکن اسکے ساتھ ہی اسکی غیر اعتباری حیثیت کو بھی بیان کرکے گویا خود کو نیوٹرل ثابت کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسکے حق میں دستبردار  ہونے کو ترجیح دے کر گویا لوگوں کی ذہن سازی کرتا ہے: اب یہ دیکھنا ہوگا کہ میرا ذاتی ڈیٹا کس کے قبضے میں جارہا ہے؟ میرے ڈی این اے کا ریکارڈ کس کی ملکیت بن چکا ہے؟حکومت کے  قبضے میں ہے یا کسی بڑی کارپوریشن کے پاس؟ اگرحکومتیں ڈیٹا کو قومیانے کی کامیاب کوششیں بھی کریں، تب بھی کسی حد تک ڈیجیٹل آمریت کا اثر رسوخ قائم رہے گا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ ڈیٹا سیاستدانوں کے حوالے کرنے سے بہتر ہے کہ کارپوریشنز پر ہی بھروسی کرلیا جائے۔ میں ولادمیر پیوٹن کی نسبت اپنا ڈیٹا مارک زکربرگ کومنتقل کرنا زیادہ پسند کروں گا۔ گوکہ کیمبرج اینیالیٹیکا اسکینڈل کے بعد فیس بک بھی زیادہ قابل بھروسہ نہ رہا۔۔۔ مارک زکر برگ نے یقیناً صحیح کہا تھا کہ انسانی کمیونٹیز کی گھٹتی شرح تشویشناک تھا۔ مگرچند ماہ ہی بعد مارک زکربرگ کا ارادہ اور وعدہ اُس وقت مشکل میں پڑ گئے جب کیمبرج اینالٰٹیکا اسکینڈل سامنے آیا۔ انکشاف ہوا کہ تیسری پارٹی فیس بُک ڈیٹا خرید کر دنیا بھر کے انتخابات میں دھاندلی کروا رہی تھی۔ زکر برگ کے عزائم مذاق بن کر رہ گئے۔ لوگوں کا فیس بک پر سے اعتبار اٹھ گیا۔۔۔شاید، ہوسکتا ہے کہ جب دنیا بھر کے معاشروں میں عدم مساوات خطرناک حد تک بڑھ جائے تو مارک زکر برگ اپنے دو ارب دوستوں کی مدد سے عالمی سطح پر کوئی مشترکہ قدم اٹھا سکے؟

آخر میں چند حقائق کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہوئے بڑے یہودی سرمایہ کارخاندانوں اور کارپوریٹ و کمپنیوں کے مغربی ممالک کے ریاستی و حکومتی ایوانوں میں  اثرورسوخ کے ساتھ ساتھ مذہبی نکتہ نظر سے ممکنہ مستقبل کو بھی سمجھ لینے کی ضرورت ہے۔رُتھ چائلڈ Rothschildخاندان کو روایتی یاسودی بینکنگ Conventional Banking میں ساری دنیا پر اقتصادی برتری بلکہ غلبہ حاصل رہی ہے۔ اکثر ممالک کے سینٹرل بینکوں  پر انکا کنٹرول ہے۔ ابتداً نارتھ کوریا، ایران، کیوبا،افغانستان،سوڈان، لیبیا اورعراق انمیں شامل نہ تھے مگر 9/11 کی  ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعدعراق اور افغانستان کے دونوں سینٹرل بینکس بھی روتھ چائلڈ کے حوالہ ہوگئے۔مبینہ طور پر سوڈان اور لیبیا میں یونائٹڈ نیشن کاجانا بھی روتھچائلڈ کے لئے تھالہذا 2011میں دونوںممالک کے مرکزی بینک بھی انکے قبضہ میں تھے۔

رتھ چائلڈ کا بانی یہودی میئراماچل (1741-1812) نے  اپنے پانچ بیٹوں کو برطانیہ، اٹلی، جرمنی، فرانس اورآسٹریا بھیجا وہاں انھوں نے سارے یورپ میں باہم منسلک بینکوں Inter-connected Banksکا جال بچھا دیا ۔ لہذا بینک آف انگلینڈ نے برطانوی کلونیل پیریڈ میں انگلینڈ کو قرضے دیئے، فرانسیسی انقلاب، نپولین وارز، نہر سوئز(1859-69)(مصر) کی کھدائی، عراقی جنگوں میں بھی انکا خاطر خواہ حصہ رہا۔  روتھچا ئلڈ خاندان کے بانی بیرن اماچل کا قول نقل کیا جاتا ہے: 

Give me control over nation’s currency and I care not who makes its laws.

"مجھے ملک کی کرنسی پر کنٹرول دے دو تو مجھے اسبات کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ اس کے قوانین کون بناتا ہے۔ "

اسی طرح  امریکی پروٹسٹنٹ Rockefellerخاندان جو کہ  صنعتی، سیاسی ، رئیل اسٹیٹ اور بینکنگ کے شعبے کے giant  ہیں۔ کسی زمانے میں 90 فیصد آئل پر اجارہ داری قائم کئے ہوئے تھے ۔ روک فیلر فیملی اور جرمن رتھ چائلڈ Rothschild  فیملی کے آپس میں قریبی تعلقات ہیں اور روتھ چائلڈ  اور فری میسنری ( جسکا گڑھ جرمنی ہے) آپس میں لازم و ملزوم کا تعلق رکھتے ہیں۔ راکفیلر زہر امریکی صدر کے ساتھ رہے مثلاً  رچرڈ نیکسن کے ساتھ نیلس راکفیلر؛ رونلڈ ریگن ، بش سینئیر ، کلنٹن کے ساتھ ڈیوڈ راکفیلر؛   سیاہ فام امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ  83سالہ سینیٹر جے راکفیلر  جو اب نیویارک میں ایک ریٹائرڈ امریکی پولیٹیشن کی زندگی گزار رہا ہے۔ 


خیال رہے ! معروف امریکی بینکر ڈیوڈ راکفیلر David Rockefeller(1915-2017)نے  کھلے طور پر یہ قبول کیا کہ وہ  یہودی خفیہ کبالہ Kabal کا حصہ ہے۔ ان یہودی 'کبالہ گروپس ' میں  دنیا کے کامیاب ترین افراد ممبر ہیں۔ "یہودی کبالہ(قبالہ)" مراد یہودیوں کی عہدِ قدیم کی اسراری یا خفیہ جہت   اور یہودی سحر یا جادو ہے ۔ کبالہ ایک پراسرار  تاریخ کاحامل موضوع ہے۔ ۔ یاد رہے یہ کوئی سازشی نظریہ Conspiracy theoryنہیں ،مسلمہ حقائق ہیں ۔ 


کئی مسیحی مذہبی اسکالرز  فری میسنریFreemasonry اور الیومیناتی Aluminati جیسی خفیہ تنظیموں اور سیکرٹ سوسائٹیز کو 'مخالف مسیح ' کی راہ ہموار کرنے والی تحریکیں اور ممبرز  سمجھتے ہیں۔  مسیحی لٹریچر میں مخالف مسیح (اینٹی  کرائسٹ Anti Christ)، کو گناہ کا شخص (Man of Sin) بھی کہا گیا ہے(تھسلنیکیوں کے نام پولس رسول کو دوسرا خط2: 3-10)۔ وہ ایسا شخص یا حاکم ہوگا جو خدا کے بجائے انسان کی پرستش کا حکم دے گا۔ لوگوں پر معاشی و  معاشرتی دباؤ ڈالے گااور کامل تابعداری کامطالبہ کرے گا۔ خدائی کا دعویٰ دار ہوگا۔وہ ساڑھے تین سال یعنی 42 ماہ (1260دن) حکمران رہے گا(دانی ایل9: 24-27)۔ اینٹی کرائسٹ کے ظاہر ہونے کے بعد مسیح کی آمدِ ثانی (Parousia۔ Second Coming)ہوگی ۔ 


یاد رہے! مذہب مسیحیت میں قرب قیامت کی دجالی انجیلی پیشن گوئیوں کے مطابق 1914سے آخری زمانہend timesشروع ہوچکا ہے  جسے کرسچن تھیولوجی میں علم الاخرت (معادیات۔  eschatos/ eschatology (یونانی: اسخاتوس)کا نام دیا جاتا ہے۔ اور اسی اینڈ ٹائمز کے بارے میں یونانی لفظ Apokalypsis بھی مستعمل ہے جس کے لفظی معنی  کشف،   مکاشفہ یا  اہم امور کا کھول دیا جانا ہے۔ عہد نامہ جدید (بائبل) میں یوحنا کا مکاشفہ  Revelation کے نام سے آخری کتاب بھی ہے۔ 666  عددِ وحش یا Mark or Number of the beastکہلاتا ہے۔ جو کہ بائبل کی آخری کتاب 'مکاشافاتِ یوحنا' میں مذکور ہے۔یہ عدد یا مجموعہ اعداد   آخری زمانے کے درندے کے نام کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آخری زمانے میں  سمندر سے نکلنے والے ایک وحشی beastکا نام ہے ۔مسیحی بیانات کے مطابق یہ وحشی دنیا  پر حکمرانی کرے گا اور ہر چیز بشمول انسان پر ایک منفرد عدد کی مہر کرے گا جس کی مدد سے انکی خریدوفروخت کی جائے گی۔ مسیحی متکلمین کی جانب سے جدید دنیا میں کئی فنی و تکنیکی ایجادات کو وحشی کی مہر (666)سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مسلم لٹریچر میں علم الساعۃ یا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک 'دجال' یا 'مسیح الدجال' کو بھی مانا جاتا ہے۔جسکے بارے میں مفصل پیشن گوئیاں اور احکامات موجود ہیں۔تاہم مسلمان کا مسئلہ قیامت کا قائم ہوجانا نہیں  بلکہ ہر قسم کے حالات و واقعات میں اپنےایمان و یقین کی سلامتی اور احکاماتِ اسلامیہ پر حتی المقدور عمل درامد ہے۔  قرآن امورِ قیامت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے:

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَـةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا تَسْعٰى(طحہٰ20؛ 15)

ترجمہ: قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔

نبی آخری الزماں محمد الرسول اللہ ﷺ  نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے:

اللہم انی اعوذ بک من عذاب القبر واعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذبک من فتنۃ المحیا والممات اللھم انی اعوذبک من الماثم والمغرم (صحیح بخاری: کتاب الاذان) 

ترجمہ: اے اللّٰہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذابِ قبر سے، دجالی فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنوں سے، گناہ اور تاوان سے۔

Post a Comment

0 Comments