یا اللہ ہماری مساجد ومدارس کی انتظامیہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما🤲

 ایک عالم کیا کہنا چاھتا ہے آپ بھی ضرور جانیں


ایک عالم کیا کہنا چاھتا ہے آپ بھی ضرور جانیں

وہ اس طرح کہ پوری دنیا میں کرونا وائرس آیا ہے اور ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے جس کے سبب مہنگائی بڑھ گئی، ہر چیز کا ریٹ کرونا وائرس کا نام لے کر بڑی آسانی سے بڑھا دیا گیا

چینی مہنگی، گندم مہنگی، آٹا مہنگا، ہر قسم کا گھی مہنگا، چاول مہنگے، ہر قسم کی سبزیاں مہنگی، پھل فروٹ مہنگے، پٹرول، ڈیزل مہنگے، گاڑیوں کے کرائے زیادہ، ہوٹل میں کھانے کی تمام چیزیں مہنگی، تمام ٹھنڈی اور گرم مشروبات مہنگی، تمام دوکان داروں نے کرونا وائرس کا نام لے کر چھوٹے بڑے،مردانہ زنانہ کپڑوں اور جوتوں کے ریٹ بڑھا دیے، ڈاکٹر  نے فیس بڑھا دی میڈیکل سٹور والے نے دوائیوں کے ریٹ بڑھا دیے، مستری اور مزدور نے اپنی اپنی مزدوری بڑھا دی، دودھی نے پانی بھی بڑھا دیا اور ساتھ ریٹ بھی بڑھا دیا، سرکاری عہدوں پر بیٹھےمگرمچھوں نے رشوت بڑھا دی، غرض کے پورے ملک میں ہر چھوٹی بڑی چیز مہنگی ہو گئی ہے، جس کے پاس جاؤ وہی کرونا کا نام لے کر قیمت بڑھا کر دیتا ہے، کرونا سے پہلے خیبر گھی 150 سے بھی  کم فی کلو ملتا تھا آج وہی 240 تک مل رہا ہے، یہ ایک مثال دی ہے آپ میرے سے زیادہ جانتے ہیں کہ کتنی مہنگائی بڑھ چکی ہے۔


ملک بھر میں اگر کوئی چیز نہیں بڑھی تو وہ ہمارےمساجد ومدارس میں پڑھانے والے علماء، خطباء، حفاظ وامام اور قراء کرام کی تنخواہیں نہیں بڑھی آخر کیوں؟


کیا مدارس ومساجد کی انتظامیہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تنخواہیں کیوں نہیں بڑھائی؟


کیا عوام کی طرح ہمارے علماء اور قراء کرام مہنگائی کی زد میں نہیں آتے؟


کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ مہنگائی کے ساتھ انکی بھی تنخواہ بڑھا دی جائیں؟


یہ بھی بڑی حیرت کی بات ہے کہ انتظامیہ تنخواہیں اپنی جیب سے نہیں دیتی بلکہ لوگوں سے ماہانہ لے کر دیتی ہے اور پھر بھی سانپ بن کر بیٹھ جاتی ہے جیسے اپنی جیب سے ادا کر رہی ہے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون


ہماری مساجد ومدارس کی انتظامیہ کی ایک اور بات بھی ہے کہ نماز کے بعد اکٹھے ہو کر مسجد میں ہی سیاست پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں فلاں نے یہ کیا ہے، فلاں نے وہ کیا ہے اس بار تو فلاں چیز اتنی مہنگی کر دی گئی ہے پچھلی بار تو اتنے کی ملی تھی اب اتنے کی ملی ہے، فلاں چیز مہنگی فلاں چیز بھی مہنگی، یہ حکومت بھی بہت ذلیل ہے مہنگائی بڑھاتی جا رہی ہے مگر انکو اتنی حیا نہیں آتی ہے کہ جب تم خود اقرار کر رہے ہو کہ مہنگائی بڑھ چکی ہے اور اسی وجہ سے حکومت پر تنقید بھی کر رہے ہو تو کیا تم نے اپنے علماء اور قراء کرام کی تنخواہ بڑھائی ہے؟


اگر نہیں بڑھائی اور یقیناً نہیں بڑھائی تو پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو کہ تم نے اپنے علماء اور قراء کرام پر کتنا ظلم کیا ہے؟


حکومت کی غلطی پر تو بڑا تبصرہ کرتے ہو کبھی اپنی غلطی پر بھی کر لیا کریں یا صرف حکومت کی غلطی نظر آتی ہے اپنی نہیں؟



کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ جن کی تنخواہیں پہلے ہی انتہائی کم ہوتی ہیں بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا ہےہم نے مہنگائی میں بھی انکی تنخواہیں نہیں بڑھائی۔


یہی وہ غریب ترین طبقہ ہے جو ہر مشکل وقت میں ہمارے کام آتا ہے، ہمارا کوئی مر جائے تو یہی لوگ جنازہ پڑھاتے ہیں اور کبھی وقت سے لیٹ نہیں ہوتے اور مسجد کی انتظامیہ امام صاحب کے سر ہوتی ہے کہ وقت پر پہنچنا ہے ورنہ لوگ ناراض ہو جائیں گے، نکاح کی باری آئے تو خطیب صاحب پہلے پہنچ چکے ہوتے ہیں اور دلہا صاحب ابھی نہا رہے ہوتے ہیں، 


الغرض ہمارے علماء، خطباء، اساتذہ، مدرس،مفتیان، امام اور قراء کرام ہر مشکل وقت میں کام آتے ہیں اور ہر سے آگے ہوتے ہیں لیکن ہماری مساجد ومدارس کی انتظامیہ کی طرف دیکھیں کہ وہ تنخواہیں کتنی کم دے رہے ہیں پھر کتنی لیٹ دے رہے ہیں۔

انا للہ وانا الیہ راجعون


بہت کم ایسی مساجد ہیں جہاں یکم پر تنخواہ دی جاتی ہے ورنہ اکثر مساجد والے دس تاریخ کے بعد ہی  دیتے ہیں حالانکہ جیسے ہماری ضروریات ہوتی ہیں ویسے ہی انکی بھی ہوتی ہیں جیسے ہمیں فکر ہوتی ہے کہ ہمارے گھر کی ہر ضرورت وقت پر پوری ہو اسی طرح ہمارے علماء کی بھی خواہش ہوتی ہے تنخواہ ٹائم پر ملے تاکہ گھر کی ضرورت وقت پر پوری ہو مگر ہماری انتظامیہ نے اس طرف کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ 


مساجد ومدارس کی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے علماء اور قراء کرام کی عزت واحترام کرتے ہوئے وقت پر تنخواہ دیں تاکہ وہ بھی اپنے گھروں کی ضروریات وقت پر پوری کر سکیں۔


بعض مساجد ومدارس کی انتظامیہ کی ایک ستم ظریفی اور بھی سننیں میں آئی ہے کہ وہ اپنے علماء و قراء کرام کو تنخواہ نہ ٹائم پر دیتے ہیں اور نہ ہی پوری دیتے ہیں بلکہ تھوڑی تھوڑی کر کے دیتے ہیں کبھی 5000 ہزار کبھی 1000 اور کبھی 2000 ہزار، انا للہ وانا الیہ راجعون۔


اب آپ ہی انصاف کریں کہ یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ ایک تو تنخواہ ہے ہی بہت کم کہ ہمارے محلے کی گلیاں صاف کرنے والوں سے بھی کم، دوسرا ٹائم پر نہیں دینی اور تیسرا پوری نہیں دینی تھوڑی تھوڑی کر دینی ہے وہ کسی کام بھی نہ آ سکے

اور مزید یہ بھی بعض اماموں سے سننے میں آیا ہے کہ انتظامیہ خود نہیں دیتی بلکہ مانگ مانگ کر تھک جاتے ہیں تب جا کر ملتی ہے۔ استغفرُللہ، انا للہ وانا الیہ راجعون

یہ حشر ان لوگوں کا کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں۔


مساجد ومدارس کے بقیہ تمام معاملات صحیح چلتے رہتے ہیں مثلاً بچوں کا کھانا، بجلی وگیس کے بل اور دیگر ضروریات جب باری آئے گی تنخواہ دینے کی اس وقت تنخواہ میں کرونا داخل ہو جائے گا جی ابھی اکٹھی نہیں ہوئی لوگ دے بھی نہیں رہے جس کے پاس جاتے ہیں وہی جواب دے دیتا ہے، کیا کریں بڑی پریشانی ہے کرونا نے بیڑہ غرق کر دیا ہے اسی طرح کے بہانے کرتے کرتے مہینہ نکال دیتے ہیں مگر کچھ ہی دن بعد اسی مسجد میں بڑی دھوم دھام کے ساتھ 50 60 ہزار لگا کر پروگرام کروا دیا جاتا ہے، استاد کو تنخواہ دینے کے لیے کچھ بھی نہیں کرونا بیڑہ غرق کر گیا اور پروگرام کے لیے 60 70 ہزار نکل آیا ہے اور وہ بھی دو تین دن کے اندر اندر۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔


ہماری مساجد ومدارس کی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اللہ کے لیے اپنے علماء اور قراء کرام کی تنخواہوں کی طرف بھی توجہ دیں اور مہنگائی کے ساتھ ساتھ بڑھائیں اگر آج آپ سے کوئی پوچھنے والا نہیں تو کل قیامت کے دن ضرور پوچھا جائے گا۔

Post a Comment

0 Comments