جہنم کی وسعت کا بیان

 جہنم کی وسعت کا بیان

ستر سال کی مسافت کے برابر جہنم کی گہرائی

🍃 عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِىُّ ﷺ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ هَذَا حَجَرٌ رُمِىَ بِهِ فِى النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَهُوَ يَهْوِى فِى النَّارِ الآنَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا. [صحیح مسلم: 7346]

🍃 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ کچھ گرنے کی آواز سنائی دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ 

• آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال پہلے آگ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار آگ میں گر رہا تھا یہاں تک کہ وہ پتھر اب جہنم کی تہ تک پہنچا ہے۔

اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُك الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِا

Post a Comment

0 Comments